Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مشترکہ مکان پارٹنر کو کرائے پر دینا کیسا؟
- Issued
- 14 ربیع الاول 1446ھ / 19 ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سمیع اور علی نے مل کر ایک گھر خریدا ہے اور اس میں علی رہائش پذیر ہے۔ سمیع نے اپنا حصہ علی کو کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟
Answer (beginning)
مشتر کہ چیز اپنے شریک کو کرایہ پر دینا جائز ہے لہذا سمیع کے لئے وہ گھر علی کو کرایہ پر دینا اور اس سے کرایہ وصول کرنا، جائز ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ” مشاع یعنی بغیر تقسیم چیز کو بیچ کر دیا جائے تو بیع صحیح ہے اور اس کا اجارہ اگر شریک کے ساتھ ہو تو جائز ہے، اجنبی کے ساتھ ہو تو جائز نہیں۔“(بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 73، مكتبة المدينه، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَدَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم عالم الاحياء الملتت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.