Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں تکبیراتِ انتقالات کہنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
- Fatwa no.
- 1927-Web
- Issued
- 13 ربیع الاوّل 1446ھ / 18 ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں تکبیرات انتقالات کہنے کا طریقہ کیا ہونا چاہئے ؟
Answer (beginning)
تکبیرات انتقالات کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ایک رکن سے دوسرے رکن کو جانے کی ابتداء کے ساتھ اللہ اکبر کا الف شروع ہو اور رکن میں پہنچنے پر اکبر کی راء ختم ہو لہذا اگر کسی نے رکوع میں جاکر تکبیر کہی تو اس نے خلاف سنت فعل کیا اور اس سے نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا : ” ایک پیش امام صاحب نماز کی حالت میں جب رکوع سے فارغ ہو کر سمع اللہ لمن حمدہ کو سجدہ کے قریب جا کر ختم کر کے بوصل اللہ اکبر کہتا ہے اور جگہ جو اماموں کو دیکھا ہے وہ سمع اللہ لمن حمدہ کو قیام میں ختم کرتے ہیں اور وہاں سے اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ کرتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.