Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرہ کے طواف کے بعد سعی میں تاخیر کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1936-Web
Issued
16 ربیع الاول 1446ھ / 21 ستمبر 2024ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عمرے کا طواف کرنے کے بعد نفل پڑھ کر آپ زم زم پی لیا، تو کیا اب سعی سے پہلے دوبارہ کعبہ معظمہ کے پاس جا کر ملتزم کا بوسہ لے سکتے ہیں یا فورا سعی کرنی ہو گی ؟

Answer (beginning)

عمرے کے طواف کے بعد سنت یہ ہے کہ اگر مکر وہ وقت نہ ہو تو فور أطواف کی دور کعتیں پڑھیں اور اس کے فوراً بعد سعی کی جائے، بلا عذر سعی میں تاخیر مکروہ ہے۔ ہاں اگر تاخیر کسی عذر کی وجہ سے ہو مثلاً تھک چکا ہے آرام کر کے سعی کرنا چاہتا ہے تو حرج نہیں۔ نیز اگر کوئی بغیر عذر کے بھی تاخیر کرتا ہے تو اس پر دَم و غیرہ کچھ لازم نہیں ہو گا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر ملتزم کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے چلا گیا تو گناہ نہیں، مگر بہتر یہی ہے کہ بلا تاخیر سعی کرنے جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.