Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرے کیلئے بائک فروخت کی اب مقروض ہوگیا تو کیا کرے؟

Fatwa no.
1934-Web
Issued
28 ربیع الاوّل 1446ھ / 03 اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے موٹر سائیکل فروخت ہونے پر عمرہ کی نیت کی تھی منت نہیں مانی تھی اور نہ منت کے الفاظ کہے تھے ، جب موٹر سائیکل فروخت ہوئی، اس وقت میں اتنی رقم کا مقروض ہو گیا جتنے کی موٹر سائیکل فروخت ہوئی۔ اب پہلے عمرہ ادا کر ناضروری ہے یا قرضہ ادا کروں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ پر عمرہ کرنالازم نہیں ہے کہ فقط نیت کر لینے یا دل میں ارادہ کر لینے سے کوئی بھی نفلی عبادت ذمہ پر لازم نہیں ہو جاتی ، نہ ہی اس کی قضا یا اس کے عوض مالی کفارہ دیناضروری ہوتا ہے۔ آپ اس رقم سے اپنا قرضہ اتار سکتے ہیں شرعا اس میں کوئی ممانعت نہیں بلکہ قرضہ ہی ادا کرنا چاہیئے کہ ادا ئیگی پر قادر ہونے کے باجود قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے کو حدیث پاک میں ظلم قرار دیا گیا ہے، تاہم اگر قرض خواہ سے اجازت لے کر عمرہ پر گئے یا قرض خواہوں سے جو وقت لیا گیا ہے اس پر ادا کر دینا ہے، اس کے اسباب بھی ہیں، قرض خواہوں کو اعتراض بھی نہیں، تو قرض ہوتے ہوئے بھی عمرہ کر سکتے ہیں اگر چہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.