Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ ڈیوٹی نماز پڑھنا اور کٹوتی کروانا

Fatwa no.
1912-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نوکری کا ٹائم نو بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ہے ، اس دوران ظہر اور عصر کی نماز بھی درمیان میں آجاتی ہے، جس ادارے میں میری نوکری ہے وہاں نماز پڑھنے ، نہ پڑھنے کے حوالے سے کوئی اصول موجود نہیں، اب ڈیوٹی کے دوران نماز پڑھنے جاسکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر پڑھنے چلے جائیں، تو کیا تنخواہ سے کچھ رقم کٹوانی ہو گی ؟

Answer (beginning)

نوکری کے اوقات میں فرض، وتر اور سنت مؤکدہ پڑھنے کی اجازت ہے اور اس میں جو وقت صرف ہو ، اس کی کٹوتی کروانے کی بھی حاجت نہیں اور سنن غیر مؤکدہ و نوافل کی اگر ادارے کی طرف سے اجازت مل جائے ، تو پڑھیں ورنہ نہیں۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ” اجیر خاص اس مدت مقرر میں اپنا ذاتی کام بھی نہیں کر سکتا اور اوقات نماز میں فرض اور سنت مؤکدہ پڑھ سکتا ہے نفل نماز پڑھنا اس کے لئے اوقاتِ اجارہ میں جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.