Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
احرام میں پردہ چہرے پر لگ جائے تو شرعی حکم کیا ہے؟
- Fatwa no.
- 1919-Web
- Issued
- 15ربیع الاوّل 1446ھ / 20 ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) احرام کی حالت میں بس میں سوار تھے، کھڑ کی والی سائیڈ پر بیٹھے تھے، دورانِ سفر کھر کی پر لگا پر دہ چہرے کی ایک طرف کچھ حصہ پر مس ہو گیا، تو اب کیا کرنا ہو گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر اس پر دے سے چہرے کا چوتھائی یا اس سے زائد حصہ چھپ گیا تھا تو صدقہ لازم ہے، (یہ صدقہ صدقہ فطر کی طرح ہو گا اور قیمت میں وہاں کا اعتبار کریں گے اور اپنے ملک میں واپس آکر بھی دیا جا سکتا ہے) اور اگر چہرہ چوتھائی سے کم چھپا تھا تو کچھ لازم نہیں ہے ، البتہ اگر یہ کام قصد اہو اتو گناہ ہو گا۔ بہار شریعت میں ہے: ”مرد یا عورت نے مونھ کی نکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یاز زیادہ لگا تار چھپانے میں دم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.