Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طواف کے دوران کعبہ کو دیکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
1915-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دورانِ طواف اگر استلام بھول گئے تو کیا حکم ہے، نیز طواف کے کرتے ہوئے خانہ کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟

Answer (beginning)

دوران طواف حجر اسود کا استلام کرنا مسنون ہے، لہذا ہر گز ترک نہ کیا جائے، تاہم بھولے سے استلام نہ کیا، تب بھی طواف ہو جائے گا۔ نیز طواف کرتے ہوئے درست طریقہ یہ ہے کہ نگاہیں اپنے چلنے کی جگہ رکھی جائیں، لہذا کعبہ کی طرف چہرہ پھیر کر دیکھنے کے بجائے جس سمت چل رہے ہوں اسی سمت نظریں رکھیں، اس انداز میں طواف کرنے سے عاجزی، خشوع و خضوع اور رقت زیادہ حاصل ہو گی۔ لباب المناسک اور اس کی شرح مسلک المنتقسط میں ہے: ” (سنن الطواف : استلام الحجر مطلقا) اى من غيرقيدالأولية والآخرية والأثنائية وان كان بعضها أكد من بعض ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.