Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہوا خارج ہونے یا زخم سے خون بہنے کی صورت میں بغیر استنجا کئے وضو کرنا

Fatwa no.
1909-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہو انکلنے یا جسم پر چوٹ لگنے کی وجہ سے خون بہہ جائے، تو کیا وضو سے پہلے استنجا کر ناضروری ہو گا؟

Answer (beginning)

ہوا نکلنے یا ہاتھ وغیر ہ اعضاء پر چوٹ لگنے سے خون بہے اور وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرنے کے لیے استنجا کرنے کی حاجت نہیں ، صرف وضو ہی کافی ہے، البتہ جسم پر لگے خون کو دھونا ہو گا۔ در مختار میں ہے: ” إزالة نجس عن سبيل فلا يسن من ريح “ یعنی سبیلین سے نجاست کو دور کرنے کا نام استنجاء ہے لہذا ہوا خارج ہونے کی وجہ سے استنجا کر نا مسنون نہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” لأن بخروج الريح لا يكون على السبيل شيئ فلا يسن منه “ یعنی کیونکہ ریح نکلنے کے سبب مقام پر کوئی نجاست نہیں ہوتی ، تو اس کی وجہ نکلنے ، سے استنجا مسنون نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.