Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نیکی و گناہ سے متعلق ایک مشہور حدیث کی وضاحت

Fatwa no.
1908-Web
Issued
15 ربیع الاول 1446ھ / 20 ستمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے۔ یعنی نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو اگر چہ مفتی تمہیں جو بھی فتویٰ دے اگر چہ مفتی تمہیں جو بھی فتوی دے؟

Answer (beginning)

حضور جانِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حضرت سید نا ابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرمانا کہ : ”جس کام پر تمہارا دل و نفس مطمئنہ جسے وہ نیکی ہوگی اور جسے تمہارا دل و نفس مطمئنہ قبول نہ کرے وہ گناہ ہو گا“ یہ حکم خاص حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ کے لئے ہی تھا۔ ان کے علاوہ سب کو حکم یہ ہے کہ غیر مجتہد ( یعنی مقلد ) اپنے امام سے فتویٰ لے گا اور اسی کے مطابق عمل کرے گا اگر چہ جو کام وہ کر رہا ہو وہ اسے دل سے اچھا، یا بر الگتا ہو تاہم جو شریعت کا حکم ہو گا اسی پر عمل کا پابند ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.