Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرائے دار مکان چھوڑ کر جاتے ہوئے اپنا سامان چھوڑ جاتے ہوں، تو حکم؟
- Fatwa no.
- 1844-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بیرون ملک میں کسی نے اپنا گھر کرائے پر دیا ہو ، تو لوگ جب بھی کرائے کا مکان چھوڑ کر وہاں سے جاتے ہوں، تو اپنا سامان چھوڑ کر جاتے ہوں تو ایسا سامان استعمال کرنے کا کیا حکم ہے مثلاً: بیگ، پر دے وغیرہ اور اگر بیگ میں سے سونے کی چین ملی اور یہ بھی یاد نہ ہو کہ کس کرائے دار کا بیگ تھا اور اس بات کو تین سال ہو گئے ہوں، تو اب اس چین کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر اس علاقے کا عرف یہ ہو کہ بیگ وغیرہ چیزیں گھر خالی کرتے وقت اس طور پر چھوڑ دیتے ہیں کہ مالک مکان استعمال کرے، تو اس طرح کی چیزیں استعمال کرنے میں حرج نہیں۔ البتہ سونے کی چین اور اس طرح کی دیگر زیادہ قیمت والی چیزیں بیگ میں کوئی نہیں چھوڑتا۔ ظاہر یہی ہے کہ یہ چین غلطی سے رہ گئی ہے ، لہذا اس چین کے مالک کو تلاش کر ناضروری ہے۔ اس وقت جو فیملی رہائش پذیر تھی، اس کا نمبر وغیرہ ریکارڈ سے نکالیں اور بھر پور کوشش کریں کہ یہ چین اس کے مالک تک پہنچ جائے یا اس چین کا مالک یا اس کے وارث جو کہیں اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.