Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے یہ شعر پڑھنا کیسا؟
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ شعر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اس شعر کا مطلب یہ نہیں کہ معاذ اللہ رب تعالیٰ فیصلہ فرمانے میں بندوں کی رضا کا محتاج ہے بلکہ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں کے لئے بعض دفعہ ایسا وقت آتا ہے کہ رب تعالیٰ ان کی رضا کے مطابق ان کو عطا کرتا ہے، اس اعتبار سے علمائے کرام نے مذکورہ شعر کو استعمال فرمایا ہے ، اس اعتبار سے مذکورہ شعر پڑھنا درست ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیه مراۃ المناجیح میں ایک حدیث کی شرح میں یہ شعر (خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے۔ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے) تحریر فرمایا اور پھر آگے ارشاد فرماتے ہیں: بندے پر بعض وقت ایسے آتے ہیں کہ رب تعالیٰ بندے کی رضا چاہتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.