Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

موبائل اور اس کی اسیسریز کی خرید و فروخت کا حکم

Fatwa no.
1892-Web
Issued
07 ربیع الاول 1446ھ /12 ستمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) موبائل اور اس کی اسیسریز کی خرید و فروخت کرنے کا کیا حکم ہے کیونکہ موبائل سے کئی ایسے کام بھی کئے جاتے ہیں جو شرعا نا جائز و گناہ ہیں ؟

Answer (beginning)

موبائل نیز اس کے لوازمات مثلاً چار جر بیٹری وغیرہ، شرعی اصولوں کے مطابق خرید نا اور بیچنا، جائز ہے، کیونکہ موبائل بذاتِ خود برا نہیں، اس کا استعمال اچھا بھی ہے اور برا بھی، خرید نے والا اس کا جیسا استعمال کرے،اس کا وبال آپ پر نہیں،اس کا وہ خود ذمہ دار ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : "وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى ترجمہ کنز الایمان : اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسرے کا ج بوجھ نہ اُٹھائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.