Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مُسَیکَه مریم کا مطلب اورمُسَیکَه مریم نام رکھنا کیسا
- Fatwa no.
- 1887-Web
Question
و, (دعوت اسلامی) اللہ پاک نے بیٹی عطا کی ہے، میں اس کا نام شتیگ، مریم رکھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ یہ نام رکھ سکتا ہوں یا نہیں ؟ ,,
Answer (beginning)
، مسیگہ “ نام رکھنا جائز ہے بلکہ یہ ایک صحابیہ کا نام ہے۔ اس کے ساتھ مریم ملاکر میگه مریم “ نام رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: " أن جارية لعبد الله بن أبي يقال لها مسيكة، وأخرى يقال لها أسيمة “ یعنی عبد اللہ بن ابی کی ایک باندی کو مسیکہ کہا جاتا تھا اور دوسری کو امیمہ ۔ اس کے تحت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اما مسيكة فبضم المیم ، یعنی مسیکہ میم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ (المنهاج، جلد 18، صفحه 163، المطبعة المصرية بالازهر) علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا ذکر صحابیات میں کیا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.