Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والدہ کا انتقال نانا سے پہلے ہوا، تو نانا کی جائیداد میں نواسوں کا کوئی حصہ ہے؟
- Fatwa no.
- 1867-Web
Question
میری والدہ کا انتقال ہمارے نانا جان سے پہلے ہو چکا تھا اور ہمارے نانا کا انتقال ابھی ہوا ہے جن کے دیگر بیٹے بیٹیاں موجود ہیں، ہم کل چھ بہن بھائی ہیں، کیا ہم اپنے نانا جان کی وراثت میں حصہ دار ہوں گے ؟
Answer (beginning)
آپ کی والدہ اپنے والد یعنی آپ کے نانا کی وراثت میں حقدار نہیں ہوں گی۔ کیونکہ وارث ہونے کے لئے مورث کی موت کے وقت وارث کا زندہ موجود ہونا حقیقی طور پر یا حکمی طور پر شرط ہے ، اسی طرح آپ بہن بھائیوں کا بھی نانا کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ وراثت ملنے کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” وجود وارثه عند موته حياحقيقةأوتقديراكا لحمل یعنی مورث کی موت کے وقت وارث زندہ ہو حقیقہ زندہ ہو یا تقدیر جیسے حمل ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.