Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں قراءت کے دوران یا سجدہ میں سر ہِل جائے تو نماز کا حکم؟

Fatwa no.
1866-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کبھی کبھار نماز میں ایسا ہوتا ہے کہ سجدے میں سر دو تین بار ہل جاتا ہے تو کیا ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہو گی اور اسی طرح کسی کو دیکھا ہے کہ نماز میں تلاوت کرتے وقت سر ہل رہا ہوتا ہے تو اس صورت میں بھی کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

مذکورہ عمل نماز کے مکروہات تحریمہ میں سے نہیں جس کے سبب نماز واجب الاعادہ ہو ، نہ ہی عمل کثیر ہے جس کی وجہ سے نماز فاسد ہو، کیونکہ جس کام کے کرنے والے کو دور سے دیکھنے سے ایسا لگے کہ یہ نماز میں نہیں یا اس بات کا غالب گمان ہو تو ہی عمل کثیر کہلاتا ہے جبکہ مذکورہ صورتوں میں کہ جب نماز پڑھنے والا نماز ، اس کی مکمل ہیئت کے ساتھ پڑھ رہا ہے تو دیکھنے والے کو فقط سجدے میں سر ہل جانے یا دورانِ قراءت سر ہلانے سے نہ تو یہ لگے گانہ ہی اسے اس بات کا غالب گمان ہو گا کہ یہ نماز میں نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.