Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سفر میں جانے پر اور واپس شہر پہنچنے پر قضا ہونے والی نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 1865-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (1) میں 110 کلومیٹر سفر کے ارادے سے اپنے شہر سے نکلا، اس وقت ظہر کا وقت تھا، میرا ارادہ تھا کہ شہر سے نکلنے کے بعد ادا کر لوں گا، لیکن دورانِ سفر میں اس نماز کو ادانہ کر سکا، اب اس کی قضا کرنی ہے، تو کتنی رکعات قضا کرنی ہوں گی؟ (2) میر ادوسرا سوال یہ ہے کہ سفر کر کے واپس اپنے گھر آرہا تھا اور ٹرین میں نماز عصر ادا نہیں کر سکا، ٹرین جب میرے شہر میں داخل ہوئی، اس وقت نماز کا وقت ختم ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے ، ٹرین کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ہی نماز کا وقت ختم ہو چکا تھا، اس نماز کی قضا کرتے ہوئے کتنی رکعات ادا کرنی ہوں گی؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں پہلی صورت میں دورانِ سفر قضا ہونے والی چار رکعت کو جب بھی ادا کیا جائے تو دو ہی پڑھی جائیں گی جبکہ دوسری صورت میں شہر کی حدود میں داخل ہونے کے بعد چار رکعت والی نماز کا وقت ختم ہو ا تو اس کی قضا چار رکعات ہی پڑھی جائیں گی۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ : کوئی شخص 92 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کے ارادے سے نکلا تو اپنے شہر کی شرعی حدود یعنی ( شہر کی آبادی اور اس سے متصل فنائے شہر ) سے نکلنے کے ساتھ ہی وہ مسافر بن جاتا ہے اور اس پر چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہوتا ہے ، یہ حکم اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ کسی جگہ 15 دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی پکی نیت نہ کرلے یا واپسی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.