Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دلہا دلہن والوں کا مل کر بارات و نکاح والے دن دعوت کرنے سے ولیمہ ہوگا یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 1862-Web
Question
ولیمہ ہوگا یا نہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شادی میں دلہا اور دلہن والے مل کر ایک فنکشن طے کر لیتے ہیں جس میں دلہن والے بارات اور رخصتی کرتے ہیں اور دلہا والوں کی طرف سے بھی مہمان مدعو کیسے ہوتے ہیں کہ ان کی طرف سے ولیمہ بھی ہو جائے، تو اس طرح ولیمہ کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہو گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں دلہا دلہن والوں کی طرف سے مل کر جو دعوت کی جارہی ہے اس طرح دعوت کا اہتمام کرنا اگر چہ شرعاً جائز ہے، لیکن اس سے ولیمہ ادا نہیں ہو گا کیونکہ ولیمہ ہمبستری کے بعد ہی ہو سکتا ہے لہذا اگر نکاح کے بعد ہمبستری نہیں ہوئی اور دعوت کر دی، تو اس سے ولیمہ کی سنت ادا نہیں ہو گی بلکہ یہ ایک عام دعوت ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ ولیمہ نہ کرنا گناہ نہیں کیونکہ راجح قول کے مطابق شب زفاف کی صبح ولیمہ سنتِ مستحبہ ہے۔ ولیمہ کی سنت ادا کرنے کے لئے جس رات میں ہمبستری ہو ، اس سے اگلے دو دن کے اندر ولیمہ کی نیت سے اپنے گھر والوں یا دوستوں کی مختصر سی دعوت کر دی جائے تو بھی ولیمہ ادا ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.