Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اسلام میں چڑیل کی حقیقت

Fatwa no.
1861-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ہمارے دین اسلام میں چڑیل کی بھی کوئی حقیقت ہے ؟ جیسے کوئی انسان کسی سنسان سڑک سے گزر رہا ہو ، تو اس سڑک پر ہلکا ساشور ہو جس سے اس طرح کی چیزوں کا احساس ہو، تو یہ سب کیا ہوتا ہے ؟

Answer (beginning)

جنات کی مؤنث کو چڑیل کہا جاتا ہے اور جنات بھی ایک مخلوق ہے ، اس کے وجود کا انکار کفر ہے ، البتہ سڑک پر اندھیرے میں اگر کسی آواز کا احساس ہو تولازمی نہیں کہ وہ چڑیل یا کوئی جن ہی ہو ، مختلف طرح کے جانوروں کی حرکت سے بھی آواز پید اہوتی ہے، بعض دفعہ ہوا سے کچھ چیزوں کے ہلنے کی آواز آتی ہے لہذا خوامخواہ اس کو چڑیل وغیرہ کی آواز نہ سمجھا جائے، اس پر توجہ دیئے بغیر وہاں سے گزر جائیں۔ بہار شریعت میں ہے: ” ان (جنات) کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.