Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1855-Web

Question

(دعوت اسلامی) اگر کسی خاتون نے عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لیا، نفل بھی ادا کر لئے اور تلبیہ بھی کہہ لیا، لیکن جانے سے چند منٹ پہلے اسے حیض آنا شروع ہو گیا، تو کیا اس پر اس عمرہ کی قضا لازم ہو گی اور دوسراسوال یہ ہے کہ اگر حیض کی حالت میں مدینہ منورہ حاضری ہو ، تو کیا مسجد نبوی کے صحن میں جاسکتی ہے؟

Answer (beginning)

احرام باندھ لینے کے بعد حیض آجانے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوتی ، نہ ہی اس وجہ سے عمرہ کی قضا کرنی ہوتی ہے، بلکہ ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ عورت عمرہ پر جائے اور ہوٹل وغیرہ میں ہی رہے ، مسجد حرام یا کسی بھی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی نہ ہی طواف وغیرہ کر سکتی ہے بلکہ اپنے پاک ہونے کا انتظار کرے، اس دوران احترام کی پابندیاں لازم رہیں گی، پھر جب پاک ہو جائے، تو غسل کر کے تمام افعالِ عمرہ ادا کر کے عمرہ مکمل کرے۔ یہی حکم مدینہ شریف جا کر مسجد نبوى على صاحبها الصلوة و السلام کی حاضری کا ہے کہ ناپاکی کی حالت میں اندورن مسجد نہیں جاسکتی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.