Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نہانے کے بعد الگ سے وضو کئے بغیر نماز پڑھنا اور قرآن چھونا کیسا؟

Fatwa no.
1850-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نہاتے ہوئے جو اعضائے وضو دھل جاتے ہیں تو اسی وضو سے نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟ اور کیا قرآن مجید ہاتھ میں لے کر تلاوت کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اگر نہانے سے پہلے وضو کر لیا جائے یا نہانے کے دوران وضو میں دھوئے جانے والے تین اعضا ( یعنی چہرہ، کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ ، ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں) دھل گئے اور کم از کم چوتھائی سر پر پانی بہہ گیا یا مسح کر لیا، تو وضو ہو گیا اور اس کے بعد وضو توڑنے والی کوئی چیز نہ پائی جائے، تو پھر نماز پڑھنے یا قرآن مجید چھونے، طواف کرنے وغیرہ عبادات کے لیے الگ سے وضو کرناضروری نہیں، بلکہ اس نہانے کے ضمن میں ادا ہو جانے والے وضو سے بھی نماز پڑھنا، قرآن پاک چھونا وغیرہ جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.