Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاقِ رجعی کی عدت کے دوران میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لئے جائیں، تو رجوع کاحکم؟

Fatwa no.
1841-Web

Question

گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک طلاق رجعی دینے کے بعد دورانِ عدت میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لئے جائیں، تو کیار جوع ہو جائے

Answer (beginning)

اگر کوئی مرد اپنی مدخولہ عورت کو ایک یاد در جعی طلاقیں دے دے، تو دورانِ عدت اس مرد کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے ، رجوع کا صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ دومردوں کے سامنے شوہر یہ الفاظ ادا کر دے کہ میں نے رجوع کیا یا میں نے اپنی زوجہ کو نکاح میں واپس لیا، اور عورت کو بھی اس کی خبر کر دے۔ البتہ کوئی شخص اپنی زوجہ سے ازدواجی تعلقات قائم کر لیتا ہے یا اس کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیتا ہے تو یہ فعل سے رجوع کہلائے گا۔ فعل سے بھی رجوع ہو جاتا ہے لیکن یہ خلاف سنت اور مکر وہ ہے ، اس صورت میں مستحب ہے کہ اس کے بعد گواہوں کے سامنے رجوع کے الفاظ کہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.