Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انتقال کے بعد چالیس دن تک غریبوں کو کھانا کھلانا
- Fatwa no.
- 1838-Web
- Issued
- 29 محرم الحرام 1446ھ /05 اگست 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے انتقال کے بعد چالیس دن تک غریبوں کو کھانا کھلانا جائز ہے ؟ کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے؟
Answer (beginning)
کسی کے انتقال کے بعد چالیس دن تک غریبوں کو کھانا کھلانا، جائز ہے کہ اس کا مقصد ایصالِ ثواب ہے اور نیک کام کر کے ان کا ثواب مسلمان کو ایصال کرنا جائز و کار ثواب ہے جس کا ثبوت احادیث میں موجود ہے۔ البتہ ایصالِ ثواب کرنے میں کسی قسم کا کوئی ناجائز کام ہر گزنہ کیا جائے نیز ایصالِ ثواب ایک مستحب عمل ہے ، لہذا اس کو لازم سمجھ کر نہ کیا جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ” إنا لند عولموتانا ونتصدق عنهم ونحج فهل یصل ذلک إلیھم“ یعنی بے شک ہم اپنے مردوں کے لئے دعا کرتے ہیں، ان کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں اور حج کرتے ہیں، تو کیا اس کا ثواب ان کو پہنچتا ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.