Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انتقال کے بعدچالیس دن تک قبر پر اگربتی جلانا
- Fatwa no.
- 1837-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے انتقال کے بعد اس کی قبر پر چالیس دن تک اگر بتی جلائی جاتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اگر قبر کے پاس قرآن پڑھنے والے موجود ہوں اور انہیں خوشبو پہنچانے کی غرض سے قبر سے ہٹ کر ا گر بتی جلائی جائے، تو یہ جائز و مستحسن ہے اور اگر وہاں لوگ موجود نہیں بلکہ محض قبر کے لیے جلائی جائے تو یہ منع ہے۔ یونہی گھر میں اگر بتی جلانی ہو، تو فاتحہ خوانی وغیرہ کے وقت حاضرین کو خوشبو پہنچانے کے لئے جلائی جائے، بلاوجہ نہ جلائی جائے کہ یہ اسراف اور ضیاع مال ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے : ”عود لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز چاہیئے اگرچہ کسی برتن میں ہو۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.