Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنی سوتیلی خالہ سے نکاح کرنے کا حکم

Fatwa no.
1832-Web
Issued
29 محرم الحرام 1446ھ /05 اگست 2024. سوال

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے نانا نے میری نانی کے علاوہ ایک اور شادی کی تھی، جن سے ان کی ایک بیٹی ہے ، جو رشتے میں میری سوتیلی خالہ لگتی ہے اور عمر میں مجھ سے ایک دوسال چھوٹی ہے، میرے نانا اور سوتیلی نانی کی وفات ہو چکی ہے، کیا میرا اس سے نکاح ہو سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

جی نہیں ! خالہ سگی ہو یا سوتیلی، اس سے نکاح کرنا حرام ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں حقیقی ماں کی سوتیلی (باپ شریک) بہن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ وَآخَوتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخَلَتُكُمْ ترجمہ کنز العرفان : تم پر حرام کر دی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں۔(پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 23) مذکورہ آیت کے تحت تفسیر نعیمی میں ہے: ”ماں کی بہن خالہ خواہ ان کی سگی بہن ہو یاماں شریکی یا باپ شریکی بہر حال حرام ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.