Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
موبائل میں نعتیں لگانے یا باتیں کرنے سے کسی کی نیند خراب ہو تو حکم
- Fatwa no.
- 1828-Web
- Issued
- 29 محرم الحرام 1446ھ / 05 اگست 2024 ء
Question
بوتوحكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رات کے وقت میں موبائل وغیرہ پر نعتیں لگانا جس کی آواز سے دوسروں کی نیند خراب ہو یا اونچی اونچی آواز میں باتیں کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دینا جائز نہیں ، لہذا مو بائل میں بلند آواز سے نعتیں چلا دینے یا اتنی اونچی آواز میں باتیں کرنے کی ہر گز اجازت نہیں کہ جس سے سونے والوں کی نیند خراب ہو اور وہ اذیت میں مبتلا ہوں۔ شریعت مطہرہ تو اتنی بلند آواز سے تلاوت کرنے کی اجازت نہیں دیتی کہ جس سے سونے والے کی نیند میں خلل آئے۔ چنانچه امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اس کی نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید و وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہا تھا جس وقت کوئی شخص نماز کے لئے آئے فورآ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.