Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حقوق العباد تلف کرنے والا بلا حساب جنت کی دعا کر سکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 1825-Web
- Issued
- 23 محرم الحرام 1446ھ /30 جولائی 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص نے حقوق العباد تلف کیے ہوں، لیکن ابھی تک ان کی تلافی نہ کی ہو مگر وہ اپنے اس عمل پر شرمندہ ہے اور دعا بھی کرتا ہے کہ تلافی کا کوئی راستہ بن جائے۔ اب کیا وہ یہ دعائیں کر سکتا ہے کہ اے اللہ ! مجھ سے راضی ہو جا اور بلا حساب جنت میں داخل فرما؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ دعا کرنا، جائز ہے، لیکن یہ ذہن میں رہے کہ فقط دعائیں مانگ کر مطمئن ہو جانا کافی نہیں ہے بلکہ جس کے جو حقوق تلف کیے ہیں ان کی معافی و تلافی بہر حال شر ع لازم رہے گی۔ اگر واقعی اپنے ناجائز کاموں پر نادم ہے ، تو صاحب حق سے معافی مانگنا اور تلف کئے گئے حقوق کی تلافی ممکن ہونے کی صورت میں تاخیر نہ کرے اور اگر صرف معافی مانگنا ممکن ہے لیکن تلافی کے لیے رقم یا اسباب نہیں، تو صاحب حق سے معاف کر والے ، یا پھر صاحب حق اگر ہونے والا نقصان معاف نہ کرے ، تو اس نقصان کی ادائیگی کے لئے مہلت لے لی جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.