Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کتنی نمازیں چھوٹ جانے سے انسان صاحبِ ترتیب نہیں رہتا؟
- Fatwa no.
- 1824-Web
- Issued
- 22 محرم الحرام 1446ھ / 29 جولائی 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کتنی نمازیں چھوٹ جائیں تو انسان صاحب ترتیب نہیں رہتا ؟
Answer (beginning)
جس کی قضاء نمازیں پانچ یا اس سے کم ہوں وہ صاحب ترتیب ہے۔ اگر چھ یا اس سے زائد نمازیں قضاء ہیں اور اس کے ذمہ پر باقی ہیں ، تو اب وہ صاحب ترتیب نہیں۔ واضح رہے کہ بلاوجہ شرعی ایک نماز بھی قضا کر دینا گناہ کبیرہ ہے، جس نے ایسا کیا وہ جلد از جلد تمام قضا نمازوں کا حساب لگا کر انہیں ادا کرے اور نماز قضا کرنے کے گناہ سے سچے دل سے تو بہ بھی کرے۔ التعريفات الفقہیہ میں ہے: ” صاحب الترتيب من لم تكن عليه الفوائت ستاغيرالوتر،یعنی صاحب ترتیب وہ شخص ہے، جس پر وتر کے علاوہ چھ نمازوں کی قضا لازم نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.