Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ نماز قطرہ نکلنے کا شک ہوا، تو نماز کا حکم؟

Fatwa no.
1821-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کو دوران نماز اس طرح شک ہوا کہ پیشاب کا قطرہ نکل گیا ہے، لیکن جب وہ اسی وقت نماز توڑ کر دیکھے ، تو اسے کسی قسم کی تری نظر نہیں آتی اور جب وہ دوبارہ نماز شروع کرے، تو اسے پھر ایسے ہی محسوس ہو پیشاب کا قطرہ نکل گیا ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہو گا کہ نماز توڑ کر دوبارہ چیک کرے یا اپنی نماز جاری رکھے ؟

Answer (beginning)

اگر قطرہ کا یقینی طور پر نکلنا معلوم نہیں ہے مثلا گیلا ہونا یا نشان دیکھناو غیرہ تو صرف قطرہ کے وہم سے نہ وضو ٹوٹتا ہے اور نہ اس وجہ سے نماز توڑیں کہ یہ شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ شیطان نماز میں دھوکہ دینے کے لئے کبھی آگے سے انسان کی شرمگاہ پر تھوک دیتا ہے جس سے قطرہ نکل آنے کا گمان ہوتا ہے، کبھی پچھلے مقام پر پھونکتا ہے یا بال کھینچتا ہے، جس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ ریح خارج ہو گئی، اس پر احادیث میں یہ حکم ہوا کہ نماز نہ توڑو جب تک تری یا آواز یائو نہ پاؤ یعنی جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو جائے اس وقت تک نماز نہ توڑی جائے اور یقین بھی ایسا کہ جس پر قسم کھا سکے کہ ہاں وضو ٹوٹ گیا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.