Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
الگ نماز پڑھ کے دوسری بار جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1810-Web
- Issued
- 25 ربیع الاول 1446ھ /30 ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص نے جماعت سے پہلے اپنی فرض نماز پڑھ لی، پھر اسی نماز کی جماعت مل جائے، تو کیا دو بار و جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
کسی نے اپنی تنہا فرض نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی، البتہ اگر جماعت واجب تھی، تو جماعت چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا۔ جو شخص مسجد میں اپنی فرض نماز نہ پڑھ چکا اور مسجد میں ہی تھا کہ جماعت قائم ہوگئی، تو اگر ظہر یا عشاء کی نماز ہے، تو اب واجب ہے کہ اس جماعت میں شامل ہو جائے ، اس صورت میں جماعت چھوڑ کر مسجد سے باہر جانا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے۔ اور نفل کی نیت سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے، اگر فرض کی نیت سے شامل ہوا، تو بھی چونکہ یہ فرض پڑھ چکا ہے، لہذا یہ نماز نفل ہی ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.