Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دَم کر کے اس کا ہدیہ لینا کیسا؟

Fatwa no.
1809-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دم کرنا اور اس کا ہد یہ لینا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

دیگر شرعی تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے دَم کرنے کی طے شدہ اجرت لینا جائز ہے۔ البتہ لوگوں کی خیر خواہی اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت فی سبیل اللہ لوگوں کو تعویذات دینا اور دم کے ذریعے ان کا علاج کرنا اور ان کی پریشانیاں دور کر نازیادہ بہتر اور فضیلت کا حامل ہے۔ حضرت سید نا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: " أن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء فيهم لديغ أو سليم فعرض لهم رجل من أهل الماء فقال هل فيكم من راق إن في الماء رجلا لديغا أو سليمافانطلق رجل منهم فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء فبرأ فجاء بالشاء إلى أصحابه فكرهوا ذلك وقالوا أخذت على كتاب الله أجرا حتى قدموا المدينة فقالوا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.