Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چار ماہ میں تیار فصل پر عشر کا حکم

Fatwa no.
1808-Web

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے ایک سوال میں آپ کی رہنمائی چاہیے کہ میرے پاس ایک زمین ہے جس کی فصل چار ماہ میں تیار ہو جاتی ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس پر زکوۃ ادا کی جائے گی یا نہیں اور اگر کی جائے گی ، تو کتنی ادا کی جائے گی اور اس کا نصاب کیسے نکالا جائے گا ؟

Answer (beginning)

کھیتی باڑی والی زمین میں جب فصل کاشت کی جاتی ہے، تو اس سے جتنی بھی فصل حاصل ہو گی، اس پر عشر یا نصف عشر لازم ہو گا، اسی کو زمین کی زکوۃ کہا جاتا ہے ، اس میں نصاب کی کوئی حد نہیں اور نہ ہی سال گزر ناشر ط ہے، بلکہ جب بھی فصل حاصل ہو گی اور جتنی بھی حاصل ہو گی، اس پر عشر یا نصف عشر لازم ہو گا۔ عشر یا نصف عشر لازم ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین کی آب پاشی زمین کی نمی سے ہوئی یا بارش کے پانی سے ہوئی، تو اس صورت میں عشر یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ نکالنالازم ہو گا اور اگر زمین کی آب پاشی آلات مثلاً ڈول، چر سایا ٹیوب ویل کے ذریعہ پانی حاصل کر کے کی گئی، تو نصف عشر یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ ادا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.