Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ نماز چہرے کے آگے رومال رکھنا کیسا؟

Fatwa no.
1801-Web

Question

نماز کے دوران چہرے کے آگے رومال رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

چہرے کے آگے رومال رکھنے سے اگر آپ کی مراد چہرے پر رومال باندھ کر چہرہ چھپاتا ہے، تو نماز میں ناک اور منہ چھپانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے ، اس سے بچنا واجب ہے اور اگر آپ کی مراد سجدے کی جگہ رومال رکھنا ہے ، تو یہ گناہ نہیں اور اس سے نماز پر بھی کوئی فرق نہیں آئے گا۔ فتاوی شامی میں ہے: ” یکرہ التلثم وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة ... ونقل طعن أبي السعود أنها تحريمية ترجمہ: تلثم یعنی نماز میں ناک اور منہ کا چھپانا، مکروہ ہے۔۔۔ اور طحطاوی نے ابو السعود سے نقل کیا ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.