Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گاڑی کرائے پر لی اور خراب ہوگئی ، تو تاوان کون دے؟

Fatwa no.
1791-Web
Issued
13 محرم الحرام 1446ھ / 20 جولائی 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک آدمی نے گاڑی کرائے پر لی، تو گاڑی لے کر جس مقام پر جانا تھا وہاں آنے جانے کے مختلف راستے ہیں اور گاڑی کے مالک نے یہ معین کر دیا کہ آنے جانے میں فلاں راستے کو استعمال کیا جائے، لیکن کرائے پر لینے والے نے مالک کا بتایا ہو راستہ استعمال کرنے کے بجائے دوسر اراستہ استعمال کیا اور اس راستے پر لے جانے سے مالک نے منع بھی کیا تھا، اب اس راستے پر جانے کی وجہ سے گاڑی میں نقصان ہو گیا، تو اس کا تاوان کون ادا کرے گا۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں گاڑی کرائے پر لینے والا جس راستہ پہ گاڑی لے گیا وہ اور جو متعین کیا گیا تھا دونوں میں مسافت، امن اور خراب ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا، تو اس پر تاوان لازم نہیں ہو گاور نہ اگر ممنوعہ راستہ خراب تھا اور خراب راستہ پر لے جانے کی وجہ سے گاڑی خراب ہوئی ہے، تو اس کا تاوان گاڑی کرائے پر لینے والے کے ذمہ پر لازم ہو گا۔ بہار شریعت میں ہے: ” ایک شخص نے کسی جگہ غلہ پہنچانے کے لیے اجیر کیا اور راستہ معین کر دیا کہ اس راستہ سے لیجانا، اجبیر دوسرے راستہ سے لے گیا اگر دونوں راستے یکساں ہیں یعنی دونوں کی مسافت میں بھی تفاوت نہیں ہے اور دونوں پر امن ہیں تو جس راستے سے چاہے لیجائے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.