Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قربانی کے گوشت سے ولیمہ یا عقیقہ کرنا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 1782-Web
- Issued
- 02 محرم الحرام 1446ھ / 09 جولائی 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قربانی کے جانور میں قربانی کی نیت سے حصہ ڈالا، اس کا جو گوشت حاصل ہوا، اس سے ولیمہ یا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
قربانی کا جانور ذبح ہو گیا ہے ، اس میں جو آپ کا حصہ تھا، اس کے گوشت کو آپ ولیمہ میں استعمال کر سکتے ہیں، لیکن عقیقہ کے لئے چونکہ جانور ذبح کرنا ہوتا ہے، لہذ ا صرف اس قربانی کے حصہ والے گوشت کو پکا دینے سے عقیقہ نہیں ہو گا ، ہاں اگر عقیقہ کے لئے الگ سے حصہ رکھا یا جانور ذبح کیا اور پھر عقیقہ کی دعوت میں قربانی کا گوشت بھی استعمال کر لیا تو اس میں حرج نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.