Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر کی تیسری رکعت میں بھولے سے نہ قراءت کی ،نہ دعائے قنوت پڑھی

Fatwa no.
1780-Web

Question

پڑھی دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے وتر میں تیسری رکعت میں بھولے سے نہ سورہ فاتحہ پڑھی، نہ سورت ملائی اور نہ دعائے قنوت پڑھی ، بلکہ تین دفعہ سبحان اللہ پڑھ کر رکوع کر لیا اور نماز مکمل کر کے سلام پھیر دیا، سلام پھیرتے ہی یاد آیا، تو فورا سجدہ سہو کر لیا۔ کیا نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

بیان کردہ صورت کے مطابق سجدہ سہو کرنا کافی نہیں ہے ، بلکہ سرے سے دوبارہ وتر پڑھنا لازم ہے کیونکہ وتر کی تیسری رکعت میں بھی مطلقاً قراءت کرنایعنی کم از کم مقدار ایک آیت کریمہ کا پڑھنا فرض ہے اور فرض رہ جانے کی صورت میں سجدہ سہو کافی نہیں رہتا، سرے سے نماز پڑھنا فرض ہوتا ہے۔ ہاں ! اگر کم از کم ایک آیت کی تلاوت کر لیتے اور مکمل سورہ فاتحہ ، سورت اور دعائے قنوت بھولے سے رہ جاتے ، تو سجدہ سہو کرنا کافی ہو تا کہ مکمل سورہ فاتحہ ، نیز قرآن پاک کی ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا اور دعائے قنوت پڑھنا واجبات نماز میں سے ہے اور بھولے سے ترک واجب کی صورت میں آخر میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.