Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیت سجدہ سننے اور امام کے سجدہ کرنے کے بعد میں نماز میں شامل ہونے کا حکم

Fatwa no.
1764-Web
Issued
01 محرم الحرام 1446ھ / 08 جولائی 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص مسجد میں جماعت میں شریک نہ ہو، بلکہ ابھی وضو کر رہا ہو یا جماعت میں ملنے کے لیے صحن مسجد یا فنائے مسجد تک پہنچاہو، لیکن ابھی جماعت سے ملا نہیں، تو امام صاحب کی قرات تراویح میں سجدہ تلاوت آگیا، جو امام صاحب نے جماعت ہی میں ادا کر دیا، تو کیا اس شخص پر بھی یہ سجدہ واجب ہے جبکہ یہ اس وقت تک جماعت میں شامل نہیں ہوا تھا؟

Answer (beginning)

نماز میں امام نے آیت سجدہ پڑھی، تو جو شخص وضو خانے میں یا اس کے علاوہ کسی جگہ موجود ہے اور اس نے آیت سجدہ بھی سنی ہے ، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔ فی الحال نماز میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور نماز ختم کرنے کے بعد یہ سجدہ تلاوت ادا کرے، البتہ اگر یہ مقتدی اسی رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے جس رکعت میں آیت سجدہ تلاوت کر کے سجدہ کر لیا گیا تو اس پر الگ سے سجدہ کرنا واجب نہیں ہو گا۔ نمازی سے آیت سجدہ سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہو جاتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے: ”ولو سمعھا رجل خارج الصلاة سجدها هو الصحيح “ یعنی صحیح قول یہ ہے کہ آیت سجدہ خارج نماز میں سنی تو بھی سجدہ کرے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.