Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مقروض پر قربانی واجب ہے؟
- Fatwa no.
- 1752-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی بندے نے کافی عرصے سے قرض دینا ہو اور بار ہا مر تبہ وعدہ بھی کیا ہو ادا کرنے کا، لیکن ہر مرتبہ وعدہ خلافی کرتا ہو ، تو اس کا ہر سال عمرہ ادا کرنا اور قربانی کرنا جائز ہے ؟
Answer (beginning)
بندہ قرض کی ادائیگی پر قادر ہو اور بلاوجہ شرعی قرض ادا کرنے میں تاخیر کرے، مطالبے کے باوجو د ادانہ کرے، تو ایسا شخص ظالم ہے ، اس پر لازم ہے کہ قرض خواہ کو قرض ادا کرے۔ البتہ اگر قرض ادا کرنے سے پہلے اس نے عمرہ، قربانی و غیرہ ادا کی تو ہو جائے گی بلکہ اگر اس پر قربانی واجب ہے، تو قربانی کرنی اس پر لازم ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ہمام بن منبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مطل الغنی ظلم “ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحب مال شخص کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.