Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مسافر پر قربانی واجب ہے؟ مسافر پر قربانی کا حکم
- Fatwa no.
- 1751-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قربانی واجب ہونے کی ایک شرط شرعی مسافر نہ ہونا بھی ہے۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ تینوں دن سفر میں رہے کہ مہلت نہ مل پائی یا یہ کہ سفر کر کے منزل (جہاں جانے کا ارادہ تھا ) پر پہنچ جانے پر بھی یہ حکم لا گو رہے گا؟
Answer (beginning)
شرعی مسافر کا جہاں جانے کا ارادہ تھاوہاں پہنچ کر اگر وہ مقیم ہو گیا یعنی وطن اصلی پہنچایا جہاں پہنچا اسے وطن اقامت بنالیا یعنی وہاں 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت تھی تو ایسا شخص مقیم کے حکم میں ہے یعنی ایام قربانی کے آخری وقت میں بھی اگر شرائط پائی جائے تو اس پر قربانی واجب ہو گی۔ اگر یہ شخص ایسی جگہ پہنچا جہاں پہنچ کر بھی یہ اس طرح مسافر رہا کہ ایام قربانی کے آخری وقت تک مقیم نہ ہو سکا، تو اس پر قربانی واجب نہ ہو گی یعنی مسافر ہونے کے لیے ہر وقت سواری پر سوار رہنا ضروری نہیں ہے ، جہاں جانا ہے وہ جگہ وطن سے 92 کلو میٹر کی مسافت پر ہے اور وہاں پہنچ کر 15 دن ٹھہرنے کی باقاعدہ نیت نہیں ہے ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.