Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طواف وداع کے بعد حج کی سعی کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1750-Web
Question
اگر کسی حاجی نے طواف زیارت کے فوراًبعد طواف وداع کر لیا اور حج کی سعی اس کے بعد ادا کی، تو اس کا کیا شرعی حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
طواف زیارت کے بعد کوئی بھی طواف کیا جائے تو وہ طواف وداع کہلاتا ہے اسی طرح حج کی سعی و قوفِ عرفہ کے بعد کرنے کی صورت میں اس کا طواف زیارت کے بعد ہو نا ضروری ہو اور پوچھی گئی صورت میں طواف زیارت کے بعد ہی طواف وداع ادا کیا اور پھر سعی کر لی تو اس طرح کرنے سے کسی قسم کا واجب ترک نہ ہو ا یعنی اس پر کوئی دم وغیر ہ لازم نہیں ہے۔ البتہ طواف زیارت کے بعد مسنون یہ ہے کہ سعی میں تاخیر نہ ہو اسی طرح طواف وداع کا مستحب وقت تب ہے جب حاجی مکہ مکرمہ سے روانہ ہورہا ہو۔ ستائیس واجبات حج میں ہے: "حج کی واجب سعی حج کا احرام باندھنے کے بعد حج کے مہینوں میں یعنی یکم شوال سے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.