Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی قربانی چھوڑ کر دوسرے کی طرف سے قربانی کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1747-Web
Question
ہے؟ کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر گزشتہ سال اپنی طرف سے قربانی کر لی، تو کیا اس سال اپنے نابالغ بیٹے کی طرف سے قربانی میں حصہ ڈال سکتا
Answer (beginning)
اگر یہ شخص صاحب نصاب ہے ، تو اس سال بھی اس پر اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہو گا، اپنی طرف سے قربانی چھوڑ کر کسی اور کی طرف سے قربانی کرے گا خواہ وہ بیٹا ہی کیوں نہ ہو، تو واجب چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا۔ ہاں اگر یہ شخص صاحب نصاب نہیں یعنی اس کے پاس اتنا مال نہیں کہ جس کی وجہ سے اس پر قربانی کرنالازم ہوتا ہو، تو اب یہ اپنے نابالغ بیٹے کی طرف سے بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.