Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر خوشبو لگی ہو تو احرام کی حالت میں حجر اسود کو بوسہ دینا

Fatwa no.
1745-Web

Question

احرام کی حالت میں جب طواف کرنا ہو تو حجر اسود کو بوسہ دینے کا کہا جاتا ہے تو اگر دیکھا جائے تو حجر اسود پر خوشبو لگی ہوتی ہے اور احرام کی حالت میں خوشبو نہیں لگا سکتے تو حجر اسود پر اگر خوشبو لگی ہو بوسہ دے دیا تو کوئی مسئلہ تو نہیں یا کچھ لازم آئے گا؟

Answer (beginning)

کعبہ شریف کے خلاف اور اس کے کونوں اور حجر اسود وغیرہ پر آج کل بہت زیادہ خوشبو لگی ہوتی ہے اور محرم کو احرام کی حالت میں خوشبو لگی ہوئی چیزوں کو چھونا یا ان سے لپٹنا منع ہے۔ اگر کسی خوشبو لگی ہوئی چیز کو چھونے ، لیٹنے، بوسہ لینے وغیر ہ سے خوشبو چھوٹ کر بدن یا احرام پر لگ جائے، تو اگر زیادہ لگے یعنی لوگ دیکھ کر کہیں کہ یہ بہت سی خوشبو لگ گئی ہے، اگرچہ تھوڑے سے حصے میں لگی ہو، یا کسی بڑے عضو جیسے سر ، منہ ،اران، پنڈلی کو پورا خوشبو نے آلودہ کر دیا، اگر چہ خوشبو تھوڑی ہے، تو ان دونوں صورتوں میں دم واجب ہو گا اور اگر کم لگے یعنی جسے لوگ زیادہ نہ کہیں، اور عضو کے تھوڑے سے حصہ میں لگے تو اس معمولی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.