Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ عدت والدین کے گھر سے شوہر کے گھر جانا

Question

(دعوت اسلامی) عدت طلاق میں عورت اپنے والدین کے گھر چلی گئی پھر مسئلہ پتا چلا کہ عدت شوہر کے گھر گزارنی تھی۔ اب کیا دورانِ عدت واپس شوہر کے گھر آسکتی ہے؟

Answer (beginning)

عدت خواہ وفات کی ہو ی طلاق کی۔ بہر صورت عورت پر لازم ہے کہ عدت کے ایام شوہر کے گھر میں گزارے ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں عورت پر لازم ہے کہ فور أشوہر کے گھر میں واپس آکر اپنی عدت کے ایام یہیں گزارے۔ نیز اگر شوہر طلاق بائن یا تین طلاقیں دے چکا ہو تو یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ دونوں اجنبی ہوں گے اور شرعی اصولوں کے مطابق پر دہ کرنا بھی ضروری ہو گا، اگر بچے بڑی عمر کے ہوں تو عورت ان کو اپنے پاس رکھے یا پھر کسی قابل اعتماد عورت کو اپنے پاس رکھے تاکہ پردہ کرنے میں آسانی رہے۔ اگر گھر چھوٹا ہو تو شوہر پر لازم ہو گا کہ بیوی کو وہیں پر دے کی رعایت کے ساتھ عدت کے ایام گزار نے دے اور خود کہیں اور رہ لے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.