Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نکاح کی پہلی رات ہمبستری کرنا لازمی ہے؟

Fatwa no.
1739-Web

Question

کیا نکاح کی پہلی رات کو ہمبستری کرنالازم ہے ؟ اگر کوئی کسی وجہ سے ہمبستری نہ کرے، تو مشہور ہے کہ ویسے کا کھانا حرام ہو جاتا ہے، کیا یہ بات درست ہے اور اس کا کیا کفارہ کیا ہو گا؟

Answer (beginning)

مذکورہ باتیں درست نہیں ہیں اور نہ ہی اس سے ولیمے کا کھانا حرام ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی کفارہ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر نکاح کے بعد ہمبستری نہیں ہوئی اور دعوت کر دی تو اس سے ویسے کی سنت ادا نہیں ہو گی، ایک عام دعوت ہو جائے گی، گناہ بھی نہیں ہو گا کیونکہ راجح قول کے مطابق شب زفاف کی صبح ولیمہ سنت مستحبہ ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت کر ناولیمہ ہے ، رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں، یو نہی بعد رخصت قبل زفاف (ہمبستری سے پہلے ) ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.