Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کو تین لاکھ دے کر ہر ماہ پندرہ ہزار نفع لینا کیسا؟

Fatwa no.
1738-Web

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے دوکان والے کو تین لاکھ روپے دیئے اور یہ طے ہوا کہ دوکان والا ہر ماہ پندرہ ہزار روپے نفع دے گا، اور دوکان پر کتنا نفع ہوا، کتنا نقصان ہوا، اس سے انویسٹر کا کوئی تعلق نہیں، اس کے تین لاکھ بھی ایسے ہی بر قرار رہیں گے اور اس کو واپس ملیں گے ، کیا یہ سود ہے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں جو معاہدہ کیا گیا ہے یہ سودی معاہدہ ہے کیونکہ اس نے جو پیسے دیئے ہیں وہ اسی طرح اپنی جگہ قائم رہیں گے اور طلب کرنے پر ان پیسوں کو واپس بھی کرنا ہو گا، تو وہ پیسے حقیقتا قرض ہیں اگر چہ اسے انویسٹمنٹ کے نام پر دیا ہو اور قرض کی بنیاد پر جو مشروط اور فکس نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے اور سود کی قرآن وحدیث میں بہت مذمت آئی ہے کہ اسے اللہ رسول عز و جل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے جنگ کرنا قرار دیا گیا ہے۔ لہذ امذ کورہ معاہدہ کو ختم کر کے شرعی تقاضوں کی بنیاد پر شرکت کریں، اس کے لیے آپ مضاربت کا طریقہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.