Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا جمرات پر رمی کرنے کے لیئے وضو ہونا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 1735-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا جمرات پر رمی کرنے کے لیے وضو ہونا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
رمی جمرات کے لئے باوضو ہونا لازم نہیں، البتہ مستحب یہ ہے کہ رمی کرنے والا باوضو ہو۔ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمتہ اللہ علیہ رمی کے مستحبات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” دویم طہارت از حدثِ اصغر واکبر“ یعنی رمی کا دوسرا مستحب یہ ہے کہ (رمی کرنے والا ) حدث اصغر (بے وضو ہونے) اور حدث اکبر سے پاک ہو (یعنی اس پر غسل فرض نہ ہو)۔ (حیاة القلوب فی زیارة المحبوب ، باب دهم در رمی جمان فصل در شرائط صحت رمی جمار ، صفحہ 314) وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.