Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تلقین کرنے کا طریقہ اور تلقین مادری زبان میں کرنا
- Fatwa no.
- 1734-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میت کو دفنانے کے بعد قبر کے سرہانے تلقین کی جاتی ہے، اس کا طریقہ کیا ہے اور کیا یہ تلقین اپنی مادری زبان میں کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
تلقین کے طریقے کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”دفن کے بعد مردہ کو تلقین کرنا، اہل سنت کے نزدیک مشروع ہے۔۔۔ حدیث میں ہے: حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی مٹی دے چکو تو تم میں ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑ اہو کر کہے : یا فلاں بن فلانہ ( یعنی اس کا اور اس کی والدہ کا نام لے ) وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے: یا فلاں بن فلانہ ! وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلاں بن فلانہ وہ کہے گا، ہمیں ارشاد کر اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے گا۔ مگر تمہیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.