Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حضور غوث اعظم کی کرامات سچی ہیں یا جھوٹی؟

Fatwa no.
1731-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مفتی صاحب آج کل حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کی بہت سی کرامات بیان کی جاتی ہیں، تو ہمیں کیسے پتہ چلے کہ یہ کرامت سچی ہے یا جھوٹی و من گھڑت ہے ؟ جیسے غوث پاک کے دھوبی والا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے ؟

Answer (beginning)

66 حضور غوث پاک رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف منسوب کرامات اگر کسی مستند و معتبر کتاب میں موجود ہو ، تو اسے سچا مانا جائے گا اور اسے آگے بیان کرنا بھی درست ہو گا۔ جیسے غوث پاک کی سیرت پر لکھی گئی ایک کتاب بھیجۃ الاسرار “ ہے، اس میں موجود کرامات بیان کی جاسکتی ہیں۔ نیز غوث پاک کا دھوبی والا واقعہ کہ جس میں آپ کے دھوبی نے قبر میں فرشتوں کے سولات کے جواب میں کہا کہ میں غوث پاک کا دھوبی ہوں، یہ واقعہ کسی مستند کتاب میں موجود نہیں، بلکہ علماء نے اسے بے اصل قرار دیا ہے، لہذا اسے بیان کرنا درست نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.