Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حج تمتع کرنے والا حل یا حرم سے باہر جا سکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 1730-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج تمتع والے نے پہلی بار میقات سے احرام باندھا اور عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ اب وہ زیارت وغیرہ کے لیے طائف جائے یا نفلی عمروں کے لیے متعدد بار حرم یا حل سے باہر میقات سے آگے کہیں جائے اور ہر بار احرام باندھ کر واپس آئے اور عمرہ کر کے احرام کھول دے، تو اس سے اس کے حج پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا ؟
Answer (beginning)
حج تمتع کرنے والے کے لیے عمرہ کرنے کے بعد اپنے گھر کے علاوہ حرم یا میقات سے باہر جانا، جائز ہے اور میقات سے باہر جانے کی صورت میں دوبارہ عمرہ کا احرام باندھ کر آنا اور عمرہ کرنا بھی جائز ہے، البتہ اگر وہ حرم میں ہے اور حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے ، تو اس پر واجب ہے کہ حج کا احرام حرم ہی سے باندھے ، اگر حج کا احرام باندھنے حرم سے باہر گیا اور وہاں احرام باندھا، پھر وقوفِ عرفہ سے پہلے مکہ میں نہ آیا، تو اس پر دم واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.