Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جائے نماز یا ٹوپی کو غیر مسلم نے چھو لیا، تو نماز کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1729-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جائے نماز یاٹوپی کو غیر مسلم نے چھو لیا، تو اس جائے نماز پر یا وہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
ٹوپی یا جائے نماز کو اگر کوئی غیر مسلم چھولے اور اس کے ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست نہیں، تو ٹوپی اور جائے نماز پاک ہے ، لہذا اس جائے نماز پر یا اس ٹوپی کو پہن کر نماز پڑھنا بالکل جائز ہے۔ مبسوط سر حسی میں ہے : " أن الأصل في الثوب الطهارة وخبث الكافر في اعتقاده لا يتعدى إلى ثيابه فثوبه كثوب المسلم وعامة من ينسج الثياب في ديارنا المجوس ولم ينقل عن أحد التحرز عن لبسها یعنی بے شک کپڑوں میں اصل طہارت ہے اور کافر کے عقیدے کی خباثت اس کے کپڑوں کی طرف متعدی نہیں ہوتی، اس کے کپڑے ایسے ہی ہیں جیسے مسلمان کے کپڑے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.