Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا جہیز کے سامان پر قربانی واجب ہوگی؟

Fatwa no.
1723-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) جہیز کا ایسا اضافی سامان جو سارا سال استعمال نہیں ہوتا، کیا اس کی وجہ سے قربانی واجب ہو گی ؟

Answer (beginning)

جہیز کا ایسا سامان جو حاجت اصلیہ سے زائد ہے وہ اگر تنہا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتا ہے یا حاجت سے زائد دیگر اموال سے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جاتا ہے، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں قربانی واجب ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے : ”عورت کو ماں باپ کے یہاں سے جو جہیز ملتا ہے اس کی مالک عورت ہی ہے، اس میں دو طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ایک حاجت کی جیسے خانہ داری کے سامان پہنے کے کپڑے، استعمال کے بر تن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان کی وجہ سے عورت غنی نہیں، دوسری وہ چیزیں جو حاجت اصلیہ سے زائد ہیں زینت کے لیے دی جاتی ہیں جیسے زیور اور حاجت کے علاوہ اسباب اور برتن اور آنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.